Posts

Showing posts from October, 2018

بغیر پیسوں کے کمانا شروع کریں :

Image
بغیر پیسوں کے کمانا شروع کریں : ------------------------------------------ ظاہر ہے بغیر پیسوں کے کچھ کرنا نہایت محنت طلب کام ہوگا اور اگر آپ محنت کرنے کے لئے تیار ہیں اور آپ کے پاس پیسے نہیں تو آپ اس کام کو کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں 1۔پورے محلے کے واٹس ایپ نمبر اکھٹا کریں ۔ 2۔ ایک ڈیزائن بنائیں گوشت اور مرغی کی سپلائی آپ کے گھر پر ۔ 3۔ محلے کے قریب جو ہول سیل دکان ہو مرغی اور گوشت کی وہاں صبح صبح پہنچ جائیں ۔ 4۔ ریٹ لیں بیس روپے تیس روپے اوپر رکھ کر سارے نمبر پر واٹس ایپ کردیں ۔ 5۔ آرڈر جب آئے تو گھر پر جاکر ڈیلور کردیں اور پیسے لے لیں ۔ جنتے زیادہ آپ کے پاس نمبر ہونگے اتنے زیادہ گاہک بنیں گیں اگر روزانہ بیس آڑدر بھی لے لئے تو چار سو سے چھ سو تک بچا سکتے ہیں ایک بار سلسلہ بن گیا تو پھر ہول سیل دکان دار آپ کو اور بھی کم ریٹ میں مال دینے کو تیار ہوگا اگر آپ اس کی روزانہ بیس سے تیس کلو مرغی یا گوشت بیچ سکتے ہیں تو ، اب آیا سوال یہ کام کیوں چلے گا؟ ہر کاروبار کسی مسائل کے حل کا نتیجہ ہوتا ہےاکثر گھروں کے اندر روز مرہ کا اناج تو موجود ہوتا ہے مگر گوشت، مرغی سبزی وغیرہ وہ روز منگواتے ہیں ا...

100 کاروباروں کی فہرست ,

Image
100 کاروباروں کی فہرست 1 : کپڑے کا کاروبار 2 : دودھ ، دہی کاکاروبار 3 : ہوٹل ، ریسٹورنٹ 4 : بچوں کے کھلونے 5 : برتنوں کا کاروبار 6 : کتابوں کی تجارت 7 : الیکٹرونکس کا کاروبار 8 : موبائل کا کاروبار 9 : مختلف علوم کی ٹیویشن 10 : ڈیزائنگ ، گرافکس 11 : فرنیچر کا کاروبار 12: زرعی پیداوار کی خرید و فروخت جس چیز کی جہاں فراوانی ہو وہاں سے خرید کر دوسرے مقام پر جہاں اسکی ضرورت محسوس کی جاتی ہو وہاں فروخت کردی جائے . 13: پرندوں کی پرورش یا پرندوں کی تجارت. ہو سکے تو دونوں. اس میں بہت سی ورائٹیز ہیں. 14 : شترمرغ فارمنگ 15 : ہربل میڈیسن 16 : کهمبی کی کاشت 17 : ردی بھنگار کا کاروبار 18 : پرچون مصالحہ جات 19 : جنرل اسٹور 20 : اسکول اسٹیشنری 21 : چپل جوتوں کی دکان 22 : آئس کریم شاپ 23 : عطر ، لوبان ، اگربتی 24 : پان کی دکان 25 : پان سے متعلق سامان کی دکان 26 : مچھلیاں 27 : مرغیاں 28 : مچھلیاں شوقیہ پالنے والی 29 : مچھلی فرائی کرکے بیچنا 30 : نیوز پیپر اسٹال 31 : پانی ، منرل واٹر 32 : ماربل ،گرینائٹ 33 : ٹائلس 34 : سانیٹری 35 : ہارڈویئر 36 : بیکری 37 : ریئل اسٹیٹ ، پلاٹ ، زرعی اراضی کی ...

خود اعتمادی کے دس فارمولے

خود اعتمادی کے دس فارمولے اگر کامیاب انسانوں کا مطالعہ کریں تو آسانی سے نظر آجائے گا کہ متاثرکن کامیابی کے مالک افراد میں خود اعتمادی زیادہ پائی جاتی ہے کیونکہ کامیابی کی بنیادی شرط متاثرکن خود اعتمادی ہے۔۔۔ خود اعتمادی کے دس فارمولے اگر آپ کامیاب انسانوں کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آسانی سے نظر آجائے گا کہ متاثرکن کامیابی کے مالک افراد میں خود اعتمادی زیادہ پائی جاتی ہے کیونکہ کامیابی کی بنیادی شرط متاثرکن خود اعتمادی ہے، شاید آپ نے بھی ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جن میں استعداد و توانائی تو تھی لیکن اظہار کی جرأت نہیں پائی جاتی تھی اس لیے کامیابی کے کسی مقام تک نہیں پہنچ سکے۔ اعتماد بہ نفس انسان کو اس کے ہدف تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور روابط کو موثر بنا کر کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔اظہار کی جرأت و ہمت دیتا ہے، نہ کہنے کی توانائی عطا کرتا ہے اور دوسروں کو تعریف کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ خود اعتمادی کے لئے زندگی میں ان دس نکات پر توجه اور مشق ضروری ہے ۱-خود کا موازنه دوسروں سے ہرگز نہ کریں کیونکہ اپنے سے باحیثیت شخص کا موازنہ آپ کو احساس کمتری کا شکار اور سستی میں مبتلا کر ...

پچاس کاروبار بغیر سرمائے کے کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ?

پچاس کاروبار بغیر سرمائے کے کیا آپ نے کبھی سوچا ہے؟ * لوگوں کی اکثریت اپنے کاروبار کو ترجیح دیتی ہے۔کیوں؟ * آپ بھی بزنس مین بن کر ایک بہتر معیارِ زندگی کے حامل ہو سکتے ہیں۔ * مگر کیا آپ کی غربت اس راہ میں حائل ہے؟ * کیا بغیر سرمائے کے آپ ایک باعزت بزنس اونربن سکتے ہیں؟ * مگر کیسے؟؟؟ یہ وہ چند سوالات ہیں جو ہر اس شخص کے ذہن میں ابھرتے ہیں جو اپنا بزنس شروع کرنے کا خواہش مند ہے۔اور یہ سوچتا ہے کہ اپنا کاروبار ملازمت کی نسبت زیادہ سود مند ہو تا ہے؟لیکن آخروہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر آپ کو اپنا کاروبار شروع کرنا چاہیے۔اس آرٹیکل میں ہم نے نہ صرف ان تمام وجوہات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جن کی بنا پر ایک شخص کو اپنا بزنس سٹارٹ کرنا چاہیے بلکہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ اپنا کاروبار جمانے کے لئے ایک بھاری سرمایا درکار ہوتا ہے۔دنیا میں رائج وہ چند طریقے اور اقدامات بیان کیے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ بغیر انویسٹمنٹ کے اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں بلکہ ایک کامیاب بزنس مین بھی بن سکتے ہیں۔ حقائق و وجوہات پوری دنیا میں ہر سال تقریباً50ملین نئی کمپنیاں وجود میں آتی ہیں۔...

کامیاب کاروباری بننے کے تین آسان نسخے

کامیاب کاروباری بننے کے تین آسان نسخے کامیاب کاروبار کے لیے کسی خاص ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی‘ آپ کو کیسے معلوم ہو گا کہ کون سا کاروبار کامیاب رہے گا اور کون سا ناکام؟ یہ سوال کسی کے لیے بہت اہم ہو سکتا ہے لیکن کینیڈا کے ریان ہومز کے لیے یہ سوال کوئی راکٹ سائنس نہیں جس کا پتہ لگانا مشکل ہو۔ ریان ہومز ایک سرمایا کار اور سوشل نیٹ ورک اکاؤنٹ کو مینج کرنے والی ویب سائٹ 'ہوٹ سوٹ' کے بانی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک کامیاب کاروباری بننے کے لیے کسی خاص ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ کو صرف ایک نسخے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے آپ یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کا کسی منصوبہ یا کاروبار میں پیسہ لگانا فائدے مند ثابت ہو گا یا نہیں۔ ہومز کے حساب سے یہ معلوم کرنا کافی آسان ہے۔ وہ اس کے لیے ٹرپل ٹی کا فارمولہ دیتے ہیں۔ نمبر ایک ٹیلنٹ ہے اچھے کاروباری آئیڈیا آپ کو ہر جگہ مل جائیں گے لیکن ان آئیڈیاز پر عمل کرنے والے باصلاحیت لوگ لاکھوں میں ایک ہوتے ہیں۔ ہومز اپنے بلاگ میں لکھتے ہیں' کسی بھی کاروبار کا تخمینہ کرنے سے پہلے میں اس کے باس اور ٹیم کو دیکھتا ہوں میرے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کاروب...

ﺻﺮﻑ 20 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﺰﻧﺲ ﺳﭩﺎﺭﭦ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ

ﺻﺮﻑ 20 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﺰﻧﺲ ﺳﭩﺎﺭﭦ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ _______________________ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﻣﻨﮕﻞ ﮐﻮ ﺳﺒﺰﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺐ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺳﺒﺰﯼ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﮦ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﻓﻐﺎﻧﯽ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮔﯿﺎ . ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺷﺎﭘﺮﺯ ﭘﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﯿﭻ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ . ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﻠﯿﮏ ﺳﻠﯿﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .... ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺗﻔﺎﻗﺎً ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺳﺒﺰﯼ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻥ ﮐﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎﺋﮯ؟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ 700 ﺭﻭﭘﮯ ..... ﻣﯿﺮﺍ ﭼﻮﻧﮑﻨﺎ ﺑﻨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ...... ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﻨﮉﯼ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﻮﻧﮑﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ ... ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺻﺮﻑ ﺑﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﻤﺎ ﮐﺮ ﻧﮑﻼ ..... ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺗﻔﺼﯿﻼً ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﮍﮮ ﺷﺎﭘﺮﺯ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺩﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﻓﯽ ﺷﺎﭘﺮ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﺩﺋﯿﮯ .... ﭘﮭﺮ ﺩﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﭘﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﺩﺱ ﺷﺎﭘﺮﺯ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭻ ﺩﺋﯿﮯ . ﭘﮭﺮ ﺑﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﭘﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ 80 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﺷﺎﭘﺮﺯ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺳﻮ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﺩﺋﯿﮯ .. ﺍﻥ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﭘﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺷﺎﭘﺮﺯ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭻ ﺩﺋﯿﮯ ......

کامیاب سرمایہ کاری کے گُر جانیئے

کامیاب سرمایہ کاری کے گُر جانیئے وارن بفٹ دنیا کے مایہ ناز سرمایہ کار ہیں۔ بچپن میں وہ اوہاما میں اپنی فیملی کےگراسری اسٹور پر کام کرتے تھے۔ اس نے پہلا اسٹاک 11 سال کی عمر میں خریدا اور آج ان کے اثاثوں کی مالیت 84.2 ارب ڈالر ہے۔ وارن بفٹ کا بچت کے حوالے سے ایک بنیادی اصول ہے: دنیا کے بیشتر لوگ اخراجات سے بچنے والی رقم کو بچت سمجھتے ہیں، یہ تصور درست نہیں۔ وارن بفٹ کا مشورہ ہے کہ عملی زندگی میں داخل ہوتے ہی یہ فیصلہ کرلیں کہ آپ اپنی آمدن کا اتنے فیصد بچائیں گے۔ آپ کے ہاتھ میں جوں ہی رقم آئے، آپ سب سے پہلے اس میں سے بچت الگ کرلیجیے اور باقی رقم اس کے بعد خرچ کریں۔ بچت کا ایک اور بھی بہت ہی سادہ سا اصول ہے۔ ’’بے شک اپنی سوچ کو بڑا رکھیں لیکن اس پر عمل درآمد کا آغاز چھوٹے چھوٹ کاموں سے کریں‘‘۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں روک کر کتنی زیادہ بچت کی جاسکتی ہے۔ ایک دن Junk فوڈنہ کھائیں تو بچت شروع ہوجائے گی، تاہم یہ بات مدنظر رہے کہ سرمایہ کاری پر قلیل المدتی فائدہ کم ملتا ہے یعنی اگر کوئی شخص 25 سال کی عمر سے میوچوئل فنڈز، اسٹاکس، یا ریئل اسٹیٹ میں کم تر سرمایہ...

ایک تاجرکی ایمان افروز کارگزاری

ایک تاجرکی ایمان افروز کارگزاری!! لاہور میں گارمنٹ کے ایک تاجر نے مسجد میں اسلامی طریقہ تجارت پڑھنا شروع کیا ، اس کا گارمنٹ مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ کا کاروبار تھا ، اس کو فرانس سے ایک کمپنی نے آڈر دیا ، اس نے اسلامی طریقہ تجارت میں پڑھا تھا کہ ● غیر مسلم سے بھی کاروبار ہوسکتا ہے کہ مسلمان ہمارا اسلامی بھائی ہے اور غیر مسلم ہمارا انسانی بھائی ہے ، ● کاروبار میں ایمانداری اور سچائی کا حکم ہے ، ● کاروبار میں أوفوا بالعقود کہ طے شدہ معاملات کو پورا کرنے کا حکم ہے ، ● کاروبار میں سنت یہ ہے کہ "زن وارجح " کہ جھکتا تولو ، ● کاروبار میں گاہک کو ہدیہ دینا سنت ہے ، تھادوا تحابوا کہ ہدیہ سے محبت بڑھتی ہے ۔ اس تاجر نے فرانسیسی کمپنی کے آڈر جس کا نمونہ مثلا 20 تھا تو اس کو 21 بلکہ 22 بناکر دیا ، ایمانداری اور معاملات کی درستگی کے ساتھ وقت پر پورا بلکہ اس سے بڑھ کر پورا کیا ، گارمنٹ کے پانچ کاٹن اضافی ہدیہ کی نیت سے ڈال دئیے اور ساتھ میں اس میں ایک چٹ ڈال دی کہ آپ کے مال میں ہینڈلنگ میں یا ہمارے بنانے میں کسی کپڑے میں کوئی کمی ہو تو ان پانچ سے پورا کرلیں ، جو اضافی نکلے وہ ہماری طرف سے ہ...

کالے_تیتر_کو_گھر_پے_پالنا

Image
#کالے_تیتر_کو_گھر_پے_پالنا دوستوں #کالے_تیتر آج بھی لوگ بہت شوق سے پالتے ہیں اور انکے مکابلے کرواتے ہیں. کالےتیتر پال کر نہ صرف لوگ اپنا شوق پورا کرتے ہیں بلکے اچھے خاصے روپے بھی کماتے ہیں. (Black francolin) کالا_تیتر# دوستوں امید هے کے سب دوست خيريت سے ہوں گے. ميرى ايک چھوٹی سی تحرير هے کالے تیتر کے متعلک امید هے آپ سب کو پسند آئے گی. اگر کوئى گلتی هو اس کے لیے معضرت. اگے بهرنے سے پهلے آپ کو اگها کرتا هو. کہ اکسریت سننے میں آیا ھے کے جس گھر میں كالا تیتر هو اس گھر میں کالا جادو نہیں هوتا. اس میں کتنی سچائى هے کچھ کھ نہیں سکتے. اس کی پاکستان میں دو مشھور اقسام پائى جاتی ھے. 1.چنگا 2.گانگٹ چنگا تتر زیاره شوق سے رکھا جاتا هے.يه گانگٹ سے قد میں چھوٹا ھوتا ھے اور زیاده بولتا هے. سندهی نسل کے تتر کی مانگ زیاده هے جو بھت سیاه هوتے هے. اس کے مقابلے بھی هوتے ھے ال پاکستان میں جو زیاده تر پنجاب کے مختلف شهرو میں ھوتے هے. جو دوپھر 12سے شام 6 بجے تک کے وقت میں هوتے ھے. اس مقابلے میں جو زیاده بولتا ھے وه جیتتا هے. اس کا لاسنس 500 میں بنتا هے جو پانچھ سال تک کارامد هوتا هے. كالے تی...

شہد کی مکھی؛ انسان دوست مخلوق

Image
شہد کی مکھی؛ انسان دوست مخلوق اللہ نے دنیا میں کوئی چیز بے مقصد اور بغیر فائدے کے نہیں بنائی ، اس کی پیدا کی ہوئی ہر شے کا کوئی نہ کوئی مصرف اور مقصد ہے . یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کچھ چیزوں کی افادیت ہماری آنکھوں کے سامنے روشن ہوتی ہے اور کچھ کی پوشیدہ ... شہد کی مکھی اللّٰه پاک کی وہ مخلوق ہے جس کے فوائد سب پر عیاں ہیں- قرآن میں شہد کی مکھی کا خاص ذکر کیا گیا ہے (16:68,69)۔ یہ غالباً ان کا زیرگی میں بے پناہ اہمیت کی وجہ سے ہے۔ اس کے علاوہ شہد کی مکھیاں معاشرتی تعاون کی علامت بھی ہیں۔یہ اللّٰه پاک کی وہ مخلوق ہے جو اپنے فوائد کے ساتھ ساتھ اپنی تنظیم اور ذہانت سے ابن آدم کو حیران کیئے ہوے ہے...شہد مکھی مکھی کے خاندان کا ذیلی مجموعہ ہیں، جو شہد کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے، سالانہ موم کے گھونسلہ بنانے کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ یہ 'اپینی' قبیلہ کی غیر تباہ شدہ باقی رکن بچی ہیں۔ ان کی سات نوع ہیں، اور 44 ذیلی نوع ہیں۔ 'شہد مکھی' مکھیوں کی بیس ہزار قسموں میں سے صرف چند ہیں۔ 'اپیس' نوع کی شہد مکھی پھولوں پر جاتی ہیں، اور پودوں کی وسیع اقسام کی زیرگی کرتی ہیں۔ کچھ اقسام کو ...

شہد کی مکھی اور اس کی کاریگری

Image
شہد کی مکھی اور اس کی کاریگری اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورۃ النحل کی آیت 68۔69 میں شہد کی مکھی اوراس کی زندگی کا مقصد بیان کردیا وَاَوْحٰی رَبُکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ ا تَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتاً وَّ مِنَ الشَّجَرِوَمِمَّا یَعْرِشُوْن . ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَا سْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلاً ْ یَخْرُ جُ مِنْ بُطُوْنِہَا شَرَاب مُّخْتَلِف اَلْوَانُہ فِیْہِ ِشفَآءُ لِّلنَّاس ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ( سورہ النحل 68 تا 69) ” نیز آپ کے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں میں ،درختوں میں اور (انگور وغیرہ کی )بیل میں اپنا گھر (چھتا)بنا۔پھرہر قسم کے پھل سے اس کا رس چوس اور اپنے پروردگار کی ہموار کردہ راہوں پر چلتی رہ۔ان مکھیوں کے پیٹ سے مختلف رنگوں کامشروب (شہد)نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں۔” چنانچہ ہر جاندار اللہ کے حکم کے مطابق کام کررہا ہے اور کائنات کا ہر زرہ اس ہی کے حکم کا تابع ہے چنانچہ شہد کی ایک چھوٹی سی مکھی کی بڑی سی مثال ہ...

موم کی دیواروں میں چھپی سوغات!

Image
موم کی دیواروں میں چھپی سوغات! شہد کا شمار انسان کی قدیم دریافتوں میں ہوتا ہے۔ تاریخ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ سب سے پہلا انسان کون تھا، جس نے خطرناک مکھیوں کے چھتے کے اندر اس میٹھاس کو دریافت کر کے دنیا کو آگاہ کیا ... شہد کا شمار انسان کی قدیم دریافتوں میں ہوتا ہے۔ تاریخ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ سب سے پہلا انسان کون تھا، جس نے خطرناک مکھیوں کے چھتے کے اندر اس میٹھاس کو دریافت کر کے دنیا کو آگاہ کیا۔ تاہم انسان کا پہلا مسکن غاروں کی دیواروں سے دریافت ہونے والی قدیم مصوری میں ایک تصویر ایسی بھی دریافت ہوئی ہے جس میںایک شخص چھتے سے شہد نکال رہا ہے اور اس کے اردگرد مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ یہ تصویر اسپین کے شہر ویلنشیا کے قریب ’’مکڑی کے غار‘ ‘ سے 1919 میں دریافت ہوئی تھی۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر قریباً 15 ہزار برس پرانی ہے۔ پاکستان کا شمار شہد برآمد کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستانی شہد زیادہ تر عرب ممالک میں برآمد ہوتا ہے۔ 2011 سے 2013 تک قریباً 440 شہد کے کنٹینر ان ممالک میں برآمد کیے گئے تھے۔ ایک کنٹینر میں 20 ہزار کلو شہد ہوتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی ش...