موم کی دیواروں میں چھپی سوغات!

موم کی دیواروں میں چھپی سوغات! شہد کا شمار انسان کی قدیم دریافتوں میں ہوتا ہے۔ تاریخ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ سب سے پہلا انسان کون تھا، جس نے خطرناک مکھیوں کے چھتے کے اندر اس میٹھاس کو دریافت کر کے دنیا کو آگاہ کیا ... شہد کا شمار انسان کی قدیم دریافتوں میں ہوتا ہے۔ تاریخ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ سب سے پہلا انسان کون تھا، جس نے خطرناک مکھیوں کے چھتے کے اندر اس میٹھاس کو دریافت کر کے دنیا کو آگاہ کیا۔ تاہم انسان کا پہلا مسکن غاروں کی دیواروں سے دریافت ہونے والی قدیم مصوری میں ایک تصویر ایسی بھی دریافت ہوئی ہے جس میںایک شخص چھتے سے شہد نکال رہا ہے اور اس کے اردگرد مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ یہ تصویر اسپین کے شہر ویلنشیا کے قریب ’’مکڑی کے غار‘ ‘ سے 1919 میں دریافت ہوئی تھی۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر قریباً 15 ہزار برس پرانی ہے۔ پاکستان کا شمار شہد برآمد کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستانی شہد زیادہ تر عرب ممالک میں برآمد ہوتا ہے۔ 2011 سے 2013 تک قریباً 440 شہد کے کنٹینر ان ممالک میں برآمد کیے گئے تھے۔ ایک کنٹینر میں 20 ہزار کلو شہد ہوتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی شہد اوسط 1000 روپے کلو فروخت ہوتا ہے۔ شہد، فارم اور جنگلات سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مکھیوں کی فارمنگ ایک محنت طلب کام ہے، جس میں فارم کا مالک پورے سال ہجرت میں رہتا ہے۔فش اور ڈیری فارمنگ کے مقابلے میں مکھیوں کی فارمنگ کسی ایک جگہ نہیں کی جاتی۔ شہد چوں کہ پھولوں کے رس سے بنتا ہے اور مختلف اقسام کے پھول مختلف موسموںمیںکھلتے ہیں، اس لیے مکھیوں کے ڈبے ٹرکوں پر لاد کر پھولوں والے علاقوں میں منتقل کرنا پڑتے ہیں۔ اس کام کے لیے فارم مالکان زمین داروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ فصل پر پھول آنے پر وہ زمین دار کی اجازت سے اپنے مکھیوں کے ڈبے وہاں رکھ دیتے ہیں۔ اس کام کے بعض زمین دار، فارم مالکان سے معاوضہ لیتے ہیں لیکن بہت سے زمین دار مکھیوں کے ذریعے پولی نیشن کی اہمیت کے پیش نظر مفت میں وہاں ڈبے رکھنے دیتے ہیں۔ اس سے اُن کی فصل کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے سرسوں سندھ میں بوئی جاتی ہے، اس لیے اس پر پھول بھی پہلے سندھ میں کِھلتا ہے۔ فارم مالکان کھیتوں میں ڈبے رکھ کر شہد حاصل کر لیتے ہیں۔ اس دوران پنجاب میں سرسوں زمین سے نکل رہی ہوتی ہے جب کہ خیر پختون خوا میںاُس وقت سرسوں بوئی بھی نہیں گئی ہوتی۔ سندھ میں جب سرسوں کے پھول سے شہد حاصل ہوجاتا ہے، تو پنجاب کی سرسوں پر پھول کھلنا شروع ہوتا ہے، چناں چہ فارم مالکان شہد کی مکھیوں کے ڈبے ٹرکوں پر لاد کر پنجاب کا رُخ کرتے ہیں۔ پنجاب کے کھیتوں سے جب شہد حاصل کر لیا جاتا ہے تو خیبر پختون خوا میں سرسوں کی فصل پر پھول کھلنے شروع ہو جاتے ہیں۔یوں ایک سال میں ایک فصل کے پھولوں سے تین مرتبہ شہد اکٹھا کیا جاتا ہے۔ فصل یا پھولوں والی جگہوں پر مکھیوںکے ڈبے رکھنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مکھیوں کو رس جمع کرنے کے لیے میلوں دُور کا سفر نہیںکرنا پڑتا ، جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے اور شہد کا چھتا جلد بھر جاتا ہے۔ایک ہی قسم کے پھول سے حاصل ہونے والے شہد کی مانگ بھی زیادہ ہوتی ہے۔ شہد کی مکھیوں کے ڈبے دراصل مصنوعی طور تیار کیے گئے چھتے ہوتے ہیں، جن کے اندر شہد کی مکھیاںانڈے بچے دیتی ہیں اور شہد تیار کرتی ہیں۔ ڈبے کے اندر لکڑی سے بنی فریمیں لائن سے لگی ہوتی ہیں۔ ہر فریم میں تین تار لگا کراس کے درمیان مصنوعی طور پر بنایا گیا مومی چھتا پھنسا دیا جاتا ہے۔ یہ مصنوعی چھتا بھی مکھیوں کے چھتے سے حاصل ہونے والے موم سے تیار کیا جاتا ہے۔ پہلے موم کوپگھلا کر شیٹ تیار کر لی جاتی ہے۔ پھر شیٹ کو دو رولرز کے درمیان سے گزارا جاتا ہے۔ رولرز پر چھتے جیسے چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوتے ہیں، جو رولرز سے گزرتی شیٹ پر نقش ہو جاتے ہیں۔ یہ خانے اسی نسل کی مکھی کے چھتے جتنے ہوتے ہیں۔ ان کی تیاری میں اگر ایک سُوت کا بھی فرق آجائے تو مکھیاں اسے قبول نہیں کرتیں۔ خانے کی شیٹ تیار ہونے کے بعد اسے فریم میں تنے تاروں کے اندر پھنسا کر ڈبے میں کھڑی حالت میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ایک ڈبے میں 10 فریم ہوتے ہیں۔ ایک فریم کی دونوں جانب دو ہزار کے قریب مکھیاں بیٹھتی ہیں۔فریم پر شہد تیار ہونے پر اس کا وزن چھے گنا بڑھ جاتا ہے۔ ایک ڈبے میںاگر 20 ہزار مکھیاں ہوں تو وہ روزانہ ایک کلو شہد تیار کر سکتی ہیں۔ فریم کے درمیانی حصّے میں چوں کہ گرماہٹ زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اس جگہ انڈے اور لاروے رکھے جاتے ہیں۔ یہ لاروے یہی کھاتے اور پیتے ہیں، اس لیے وقت کے ساتھ موم کی شیٹ پر میل سا جم جاتا ہے اور چھتے کی دیواریں موٹی اور خانے تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ان خانوں میں پرورش پانے والی مکھیوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے۔ پرانا چھتا ہونے کی وجہ سے بیماریوں اور جراثیم کا بھی خطرہ لگا رہتا ہے، اس لیے چند سال بعد شیٹیں تبدیل کر دی جاتی ہیں ۔ ۔ شہد کی مکھیوں کی اوسط عمر تین، چار ہفتے ہوتی ہے، اس لیے ایک فریم میں دو ،تین سال کے دوران مکھیوں کی 10 سے 12 نسلیں گزر جاتی ہیں۔ ایک چھتے میں روزانہ200 سے 300 مکھیاں مرتی اور پیدا ہوتی ہیں۔ شہد کی مکھیاں بہت محنتی اورجفاکش ہوتی ہیں ۔ ان پر بڑھاپا طاری نہیں ہوتا اور وہ آخری عمر تک کام میں جٹی رہتی ہیں۔ جب موت کا وقت آتا ہے تو اُڑتے اُڑتے ہی مر جاتی ہیں۔ ملکہ مکھی پورے جھنڈ کی ماں ہوتی ہے اور وہی انڈے دیتی ہے۔ چھتے میں 92 فی صد کارکن مکھیاں ہوتی ہیں، جن کا کام پھولوں سے رس جمع کر کے چھتے تک پہچانا ہوتا ہے۔ پھولوں کے رس میںبہت زیادہ نمی ہوتی ہے۔ مکھیاں رس چوس کر چھتے تک لاتی ہیںاور اندر بیٹھی مکھیوں کے منہ میں منتقل کر دیتی ہیں۔ یہ مکھیاں رس کو باربار منہ سے نکال کر واپس اندر لیتی رہتی ہیں، ا س طرح رس کی نمی ختم ہو جاتی ہے اور وہ گاڑھے شہد میں تبدیل ہو جاتا ہے، پھر اسے چھتے میں بنے خانوں کے اندر رکھ دیا جاتا ہے۔ خانے جب شہد سے پوری طرح بھر جاتے ہیں تو ان پر ہلکی چمک پیدا ہوجاتی ہے۔ شہد سے بھرے ان خانوں پرمکھیاں کاغذ جیسی پتلی موم کی پرت چڑھا دیتی ہیں، جس کی وجہ سے چمک دکھائی نہیں دیتی۔ اس کا مطلب یہ ہُوا کہ چھتا شہد نکالنے کے لیے بالکل تیار ہوچکا ہے۔ ایک فارم میں عموماً 200 سے 300 مکھیوں کے ڈبے ہوتے ہیں۔چھتے میں شہدتیار ہونے کی مدت کا انحصار علاقے میں موجود پھولوں کی مقدار اور مکھیوں کی صحت پر ہوتا ہے۔ اگرمکھیاں صحت مند اور پھول وافر مقدار میں ہوں تو چند دنوں میںہی چھتا شہد سے بھر جاتا ہے۔ پھول عموماً 25 سے 30 دن تک کِھلے رہتے ہیں، اس دوران ایک ڈبے سے 10 سے 12 کلو شہد حاصل ہوتا ہے۔ مکھیوں کو اگرپانچ ،چھے مرتبہ پھولوں والے علاقوں میںمنتقل کریں تو پندرہ ، سولہ ہزار مکھیوں والے ایک ڈبے سے سال بھرمیں 50 سے 60 کلو شہد بہ آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چھتے سے شہد نکالنے کے لیے پہلے ڈبے سے مکھیوں کو منتشر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے ایک مخصوص لباس پہنا جاتا ہے، جس سے پورا جسم ڈھپ جاتا ہے۔ چہرہ ڈھاپنے کے لیے ایک مخصوص ہیڈ پہننا پڑتا ہے،جس کے چاروں طرف جالی لگی ہوتی ہے۔ دھواں پیدا کرنے والے ایک مخصوص ڈبے میں پرانی بوری جلا کر ڈالی جاتی ہے، جس کے پچھلے حصّے میں لگے پمپ کو دبانے سے ڈبے کے کھلے منہ سے دھواں نکلتا ہے۔ مکھیوں کو ڈبے سے دُور کرنے کے بعد ڈبے کے اندر رکھیں فریم نکال کراُن میںلگی مصنوعی مومی شیٹیں الگ کر دی جاتی ہیں۔ ایک چھڑی کو کھولتے ہوئے پانی میں ڈبو کر اسے کپڑے سے پونچھ لیا جاتاہے۔ اس طرح چھڑی گرم رہتی ہے اور اس پر نمی بھی باقی نہیں رہتی۔ نیم گرمی چُھڑی چھتے کے خانوںپر لگی مومی پرت پر پھیرنے سے پرت پگھل جاتی ہے اور خانے کھل جاتے ہیں۔ بعدازاں ان شیٹوں کو ایک مشین میں ڈال کر گھمایا جاتا ہے، جس سے شہد نکل کر نیچے رکھے برتن میں جمع ہو جاتا ہے۔ اس مشین کا کمال یہ ہے کہ شہد نکالتے وقت ان شیٹوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی ، اس طرح یہ شیٹیں دوبارہ استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ مکھیوں کے لیے شہد جمع کرنا بہت آسان کام ہے جب کہ موم کا چھتا بنانا مشکل ہے۔ چناں چہ منصوعی چھتے سے مکھیوں کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے۔ حب ڈیم کے قریب واقع ’’شاہ فارمز‘‘ شہد کی مکھیوں کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس فارم کے مالک ایپی کلچرسٹ سیّد عاصم ظفر شاہ 1982 سے شہد کا کاروبار کر رہے ہیں۔انھوں نے اس کام کی ابتدائی تربیت فیصل آباد یونی ورسٹی سے حاصل کرنے کے بعدآسٹریلیا کی ایک یونی ورسٹی سے’ایپی کلچر مینجمنٹ‘ میں اسپیشلائز کیا ۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد وہ ایگری کلچر ریسرچ کونسل اسلام آباد میں 1989-90 تک کام کرتے رہے۔ اسی دوران پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد شروع ہوچکی تھی۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے پاس افغان مہاجروں کی بحالی کے کئی منصوبے تھے، چناں چہ شہد کی مکھیوں کے ذریعے انھیں روزگار فراہم کرنے کے ایک منصوبے سے عاصم ظفر بھی منسلک ہوگئے۔ انھوں نے ڈھائی سال کے دوران سیکڑوں افغانیوں کو شہد کی مکھیاں پالنے کا ہنر سکھا کر انھیں اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ آج یہ افغانی، شہد برآمد کرنے والی بڑی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ عاصم ظفر بتاتے ہیں کہ جب اُن کی عمر 22 سال تھی، تب انھیں شہد کی مکھیاں پالنے کا شوق پیدا ہوا۔ چناں چہ وہ زرعی شعبے میں شہد کی مکھیوں کے ڈبے لینے گئے،جہاں سرکاری ریٹ پر آدھی قیمت میںیہ ڈبے مل جاتے تھے، لیکن انھیں یہ کہتے ہوئے ٹال دیا گیا کہ ڈبے ختم ہوچکے ہیں۔ پھر وہ کمرشل فارمرکے پاس گئے اور اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے اُن سے کہا کہ وہ مکھیاں پالنا چاہتے ہیں اور اس میں اپنا کیریر بنانے اور تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہاں بھی اُن کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے یہ جواب ملا کہ اس کام میں کوئی نفع نہیں، اس لیے اس کا خیال اپنے دل سے نکال دو۔ تھک ہار کرانھوں نے اسلام آباد سے سفارش کروا کر سرکاری محکمے سے چند ڈبے حاصل کرلیے۔ جب وہ اس کام میں ماہر ہوگئے تو انھوں نے آسٹریلیا سے مکھیوں کی درآمد شروع کر دی۔ عاصم ظفر کے والد نے ایک سوسائٹی بنا کر لوگوں کو یہ ہنر سکھانے کی تجویز دی۔ چناںچہ 1982 میں کراچی کے چند فارمرز کے ساتھ مل کر پاکستان کی پہلی’’بی کیپنگ سوسائٹی‘‘قایم کی گئی، جس کے پہلے صدر عاصم ظفر کے والد تھے اور وہ سوسائٹی کے ٹیکنیکل سیکریٹری چنے گئے۔ اس سوسائٹی کے تحت آج بھی مختلف زرعی جامعات کے شعبہ زراعت کے طالب علموں اور کسانوں کو شہد کی مکھیاں پالنے کے طریقے مفت سکھائے جاتے ہیں اور عملی مظاہرہ کر کے بتایا جاتا ہے۔ عاصم ظفر کہتے ہیں کہ شہد کی مکھیوں پر دنیا بھر میں تحقیق ہو رہی ہے لیکن بدقسمتی سے مسلم ممالک، خاص طور پر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ شہد کی مکھیاںجب رس چوسنے پھولوں پر بیٹھتی ہیں تو اُن کے جسم پر پولن چپک جاتا ہے ۔ اس طرح پولی نیشن کے ذریعے وہ مختلف فصلوں کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن پاکستان کے کسان مکھیوں کی اس افادیت سے نا واقف ہیں۔ پاکستان کی زرعی جامعات میں بی ایس سی اور ایم ایس سی کی سطح پر شہد کی مکھیوں کو ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتاہے، لیکن کسی بھی زرعی جامعہ میں ایک بھی ’ لائیو اپیری‘ (مکھیوں کا فارم) نہیں ہے۔انگریزوں کے دَور میں فیصل آباد یونی ورسٹی میں ایک فارم بنایا گیا تھا، جو عدم توجہی کے باعث چند سال پہلے بند ہوچکا ہے۔ عاصم ظفر اپنے طور پر مختلف جامعات کے طالب علموں کو شہد کی مکھیاں پالنے کا طریقہ سکھاتے ہیں ۔ اس سلسلے مے جامعہ ٹنڈو جام کو انھوں نے خود مکھیوں کے ڈبے فراہم کیے اور وہاں دو،تین سیمینار کروائے۔ لیکن حکومتی سطح پر کوئی دل چسپی نظر نہیں آئی۔ غیر ملکی جامعات میں جو پڑھایا جاتا ہے، اُس کا عملی مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم جب پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ایگریکلچر آفیسر بنتے ہیں یا ملٹی نیشنل کمپنیوں میں فیلڈ ورک کے طور پر کسانوں کے پاس جاتے ہیں تو ان کے پاس علم کے ساتھ عملی تجربہ بھی ہوتا ہے ، اس لیے وہ اعتماد کے ساتھ کسانوں کی راہ نمائی کرتے ہیں۔ شہد کی مکھی کے جسم سے شہد کے علاوہ دوسری کارآمد چیزیں بھی پیدا ہوتی ہیں، اس لیے سورہ نحل میں جہاںشہد کی مکھیوں سے متعلق آیات آئی ہیں، وہاں شفا کے طور پر لفظ ’عسل‘ (شہد)نہیں آیا۔یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ شفا کا لفظ صرف شہد تک محدود نہیں ہے۔شہد کی مکھی کے پیٹ سے شہد کے علاوہ موم ، پروپلس، رائل جیلی، اور زہر (وینپ) بھی نکلتا ہے ،جس میں شفا ہے۔ سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے جسم کے اندر موجوددفاعی نظام ہمیںمختلف اقسام کی الرجی اور زہر سے بچاتا ہے، شہد کی مکھی کا ڈنگ اس سسٹم کو چاق و چوبند کر دیتا ہے ۔ اس لیے جوڑوں کے درد کی ویکسین کے اجزاء میں شہد کی مکھیوں کا زہر بھی شامل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے، جہاں مختلف اقسام کے پھول پائے جاتے ہیں۔ آسٹریلیا مکھیوں کی پیدا وار میں سب سے آگے ہے۔حالاں کہ وہاں بیر کے جنگلات، لیونڈر کی خودر وجھاڑیاںاور اجوائن کی گھاس نہیں ہے، جیسا کہ زیارت اور لورا لائی میں پائی جاتی ہے جہاںسے لیونڈر کا شہد حاصل ہوتا ہے۔ زیارت میں مئی کے مہینے میں برف پگھلنے کے بعد اجوائن کی خودرو گھاس اُگتی ہے، جس کے پھولوں سے حاصل ہونے والے رس سے بنا شہد اینٹی بایوٹک ہوتا ہے۔ یہ شہد مختلف امراض میں کام آتا ہے۔ شہد حاصل کرنا ایک طرح کی ٹارگیٹڈ سرگرمی ہوتی ہے۔ فارم مالکان کے پاس پورا سال کا ٹائم ٹیبل ہوتا ہے کہ فلاں علاقے میں فلاں پھول فلاں مہینے میں کِھلے گا۔ چناںچہ وہ ٹائم ٹیبل کے حساب سے مکھیوں کے ڈبے مختلف علاقوں میں منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہرے بھرے علاقے میں 300 سے 400 ڈبے رکھے جاتے ہیں۔ ایک ٹرک میں عموماً 220 کے قریب ڈبے ہوتے ہیں اور ڈبوں سے بھرے ایک ٹرک کو ’فارم‘ کہتے ہیں۔ بیر کے جنگلات دنیا کے صرف چند ممالک میں ہیں، جن میںپاکستان میں شامل ہے۔ یہ جنگلات اکوڑا خٹک، ڈیرہ غازی خان اور سوات میں خواجہ خیلہ سے اُوپر کے علاقے ’چڑ‘میں پائے جاتے ہیں۔ بیرون ملک بیر کا شہد 2000 روپے کلو فروخت ہوتا ہے۔ بعض فارم مالکان زیادہ منافع کے لالچ میں بیر کے شہد میں دوسرے پھولوں کا 400 روپے کلو والاسستا شہد مکس کر دیتے ہیں۔بیری کاشہد بڑی مقدار میں یمن اور سعودی عرب برآمد ہوتا ہے۔لیکن پاکستان سے جتنا شہد یمن جاتا ہے ، وہ یمنی شہد کے نام سے سعودی عرب اور انڈونیشیا میں فروخت ہوتا ہے۔ زیارت اور لورا لائی، شہد کی پیدا وار کے حوالے سے اچھے علاقے تصور کیے جاتے ہیں۔ زیارت کا شہد اس لیے بھی مشہور ہے کہ وہاں صنعتی ترقی بہت کم ہوئی ہے، وہاں جونیپر کے جنگلات، اجوائن اور لیونڈر کے خود رو پودے بڑی تعداد میں اُگتے ہیں۔جب کہ سیب کے باغات بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔شہد کی مکھیوں کو یہاں بہ آسانی پھول مل جاتے ہیں۔ پاکستان میں بیری کا شہد سب سے مہنگا ہے، ایک کلو شہدکی قیمت 1900 روپے ہے، جب کہ پلوساکا 550 روپے، مالٹے اور ٹالی کا شہد 650 روپے اور اجوائن کا 850 روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ شہد کا کاروبار کرنے والے اخلاقی طور پر اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات پر اس شہد کے’ ذریعے‘ کا بھی ذکر کریں کہ یہ شہد کس پھول کے رس سے بنا ہے۔لیکن بوتل پرصرف یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ چھوٹی مکھی کا خالص شہد ہے ، یہ پہاڑی مکھی کا ہے اور یہ جنگلی مکھی کا شہد ہے۔ یہ سب جھوٹی اور من گھڑت باتیں ہیں۔ شہد کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ نوزائیدہ بچے کو گٹھی میں شہد چٹایا جاتا ہے تو جاں بلب مریض کے لیے بھی بہت سے حکماء شہد تجویز کرتے ہیں۔دیگر ممالک میں بی کیپنگ یعنی شہد کی مکھیاں پالنا لائیو اسٹاک کے زمرے میں آتا ہے اور انھیں حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام زرعی جامعات میں مکھیوں کے فارمزقایم کیے جائیں تا کہ طالب علموں کوپڑھائی کے ساتھ عملی طور پر بھی اس کام کا تجربہ حاصل ہو سکے اور وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسانوں کو بہتر طور پر مکھیوں کے ذریعے پولی نیشن کی افادیت سے آگاہ کر سکے اور شہد کی پیدا وار بڑھا کر زرمبادلہ کما سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

شہد کی مکھی؛ انسان دوست مخلوق

کالے_تیتر_کو_گھر_پے_پالنا

100 کاروباروں کی فہرست ,